Written by 11:43 am Construction, Property Laws, Real Estate

وراثت کے قانون میں وارثین کی اقسام

اسلامی قانون وراثت سب سے پہلے قریبی رشتے داروں یعنی کے خون کے یا پھر نکاح کے رشتوں کووراثت کی تقسیم کے وقت ترجیح دیتا ہے ۔ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم ،اس کی تقسیم نہایت اہم ہے جس کے لیے وراثت کے قانون کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔

وراثت کے قانون میں وارثین کی اقسام

اسلامی قانون وراثت سب سے پہلے  قریبی رشتے داروں یعنی کے خون کے یا پھر نکاح کے رشتوں کووراثت کی تقسیم  کے وقت  ترجیح دیتا ہے ۔ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم ،اس کی  تقسیم  نہایت اہم ہے  جس کے لیے وراثت کے قانون کو سمجھنا بھی  ضروری ہے ۔ اسلامی قوانین وراثت میں ہر وارث کے لیے ایک خاص حصہ مخصوص کیا گیا ہے  مثال کے طور پر بیٹے کو بیٹی کے حصے کا دگنا ملےگا۔ اسی طرح  بیوی کا حصہ اولاد ہونے کی صورت میں مختلف اور بے اولاد ہونے کی صورت میں الگ ہے۔ ترکے کی تقسیم سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ وراثین کون  کون ہیں اور انھیں کتنا حصہ ملے گا۔

وارثین کی اقسام

ذوی الفروض

ذوی الفروض میں چار مرد اور آٹھ عورتوں کے حصے شامل ہیں۔ وراثت  کی تقسیم کے وقت سب سے پہلے  انھیں کو حصہ ملتا ہے ۔ ذوی الفروض ایسے قانونی وارثین ہوتے ہیں جن کا حصہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے یعنی ان میں ردوبدل ہرگز ممکن نہیں مندرجہ زیل افراد  ذوی الفروض میں شامل ہیں۔

خاوند ( اگر اولاد موجود ہے  تو بیوی کی وفات کے بعد  خاوند کو وراثت کا ¼  حصہ ملے گا ور اگر اولاد نہیں ہے تو ½ حصہ  ملے گا) ۔

بیوی ( اگر اولاد موجود ہے تو خاوند کی وفات کے بعد  1/8حصہ بیوی کو ملے گا اور اگر اولاد نہیں ہے تو ¼ حصہ کو ملے گا)۔

باپ (اگر متوفی  کا بیٹا ہے تو باپ کو وراثت کا 1/6 حصہ ملے گا اور اگر صرف بیٹی ہےتو 1/6 کے ساتھ بیٹی کے حصے  کے بعد بچا ہوا حصہ بھی باپ کو ہی ملے گا۔ اس کے علاوہ اگر متوفی کی کوئی اولاد نہیں تو اسکی ساری جائیداد باپ کے حصے میں آجائے گی)۔

دادا ( اگر متوفی کی اولاد بھی نہیں اور باپ بھی  حیات نہیں ہے تو ایسی صورت میں وراثت داد ا کو ملے گی)۔

ماں ( اگر متوفی کی اولاد اور بہن بھائی ہیں تو ماں کو 1/6حصہ ملے گا اور  اگر اولاد اور بہن بھائی نہیں ہیں تو حصہ 1/3 ہوگا)۔

دادی/ نانی( اگر متوفی کی ماں یا باپ نہیں ہے تبھی ان کو وراثت میں حصہ ملے گا اور یہ بھی 1/6 ہوگا)۔

بیٹی ( اگر متوفی  کا بیٹا نہیں ہے اور بیٹی ایک ہی  ہے تو اسے وراثت کا ½ حصہ ملے گا باقی دیگر رشتہ داروں میں بٹ جائے گا ۔ اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں موجود ہیں تو وہ  2/3 کی حق دار ہوں گی پوری جائیداد پھر بھی ان کے  حوالے  نہیں ہوگی)۔

پوتی( اگر متوفی کی بیٹی اور بیٹا وفات پاچکا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ کوئی پوتا بھی نہیں ہے تو اس صورتحال میں  پوتی کو اتنا حصہ ملےگا جتنا بیٹی کو ملتا ہے)۔

مادری بہن

مادری بھائی

حقیقی بہن

پدری بہن

عصبات

وراثت میں سے ذوی الفروض کا حصہ انھیں دینے کے بعد بقیہ وراثت عصبات میں تقسیم ہوجاتی ہے۔عصبات مندرجہ زیل ہیں۔

بیٹا ( اگر متوفی  کا بیٹا  موجود ہے تو وہ بیٹی کے حصے سے دگنے کا حق دار ہوگا)۔

باپ

بھائی

چچا

ذوی الارحام

اگر مرحوم کے خونی یا نکاح کے رشتہ دار نہیں ہیں تو اسکی وراثت ذوی الارحام میں تقسیم  ہوجائے گی۔ذوی الارحام میں  یہ افراد شامل ہیں۔

بیٹیوں کی اولاد

ماموں

خالہ

پھوپھی

اس  صورتحال میں بھی مذکر کو مرحوم کے ترکے میں سے قانون کے مطابق دو جبکہ مونث کوایک حصہ لے گا۔

وراثت کی تقسیم کے لیے شرائط کے حوالے سے ہم نے آپکو اپنے پچھلے بلاگ “وراثت کا قانون آسان الفاظ میں ” میں تفصیلا” آگاہ کیا ۔ اس بلاگ میں آپ نے وارثین کے بارے میں معلومات حاصل کیں جبکہ ترکے کی تقسیم کا طریقہ بھی ہم آپکو اپنے اگلے بلاگ میں مثال دے کر سمھانے کی کوشش کریں گے۔

ریئل اسٹیٹ کے ھوالے سے مزید معلومات کے لیے وزٹ کیجیئےاے ایچ بلاگ

(Visited 346 times, 1 visits today)
Close
Copy link
Powered by Social Snap