Written by 12:48 pm Construction, Expos, Property Laws, Real Estate

کیا آپ زمینی کھاتوں کی اصطلاحات موضع ،کھیوٹ، خسرہ کے بارے میں جانتے ہیں؟

پراپرٹی کی خرید و فروخت ایک پیچیدہ عمل ہے جسے عام شہری اکثراوقات سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ، زمین کے انتقال کا معاملہ ہو ،حد بندی کی تفصیلات ہوں یا زمین کے دیگر کھاتے ۔
اس بلاگ میں ہم آپکو زمینی کھاتوں کی ان اصطلاحات کے بارے میں آگاہ کریں گے جنہیں سمجھ کر آپ اپنی زمین کی تقسیم ، انتقال وغیرہ کے کام کو بخوبی نبھا سکیں گے۔

پراپرٹی کی خرید و فروخت ایک پیچیدہ عمل ہے جسے عام شہری اکثراوقات سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ، زمین کے انتقال کا معاملہ ہو ،حد بندی کی تفصیلات ہوں یا زمین کے دیگر کھاتے ۔ ان کے بارے میں جاننے کی بجائےالاٹی اور ٹرانسفری دونوں پارٹیاں بیکار کی دستاویزات بنوانے اور پٹوار خانوں کے چکر لگانے میں نا صرف اپنا وقت ضائع کردیتیں ہیں بلکہ ان کی زمینی کھاتوں کے بارے لاعلمی کا فائدہ پٹورای اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹس بھرپور انداز میں ان کو لوٹ کر اٹھاتے ہیں۔ اس بلاگ میں ہم آپکو  زمینی کھاتوں کی ان اصطلاحات کے بارے میں آگاہ کریں گے جنہیں سمجھ کر آپ اپنی زمین کی تقسیم ، انتقال وغیرہ کے کام کو بخوبی نبھا سکیں گے۔

پاکستان کے زمین کے حوالے سے گیارہ ٹکڑے ہیں ۔

ملک/ ریاست

صوبے

ڈویژن

ضلع

تحصیل

گاوں

موضع

کھیوٹ

کھتونی

خسرہ

شاملات

  اب ہم ان ٹکڑوں کو ڈسکس کرتے ہیں جن کے بارے میں معلوم ہونازمین کی خرید و فروخت کے عمل میں ضروری ہے ۔۔

موضع/ محال/ ریوینیو اسٹیٹ

لینڈ ریوینیو ایکٹ کے تحت موضع یا محال  یا پھر ریوینیو اسٹیٹ اس زمین کے ٹکڑے کو کہتے ہیں جس میں ایک سے زیادہ مالکان بس رہے ہوں اور اسکا اپنا  رجسٹر حق داران ہو۔موضع بڑے یونٹ کو بھی کہا جاتا ہے  جیسا کہ کوئی بڑا گاوں یا چھوٹے چھوٹے گاوں کو ملا  کر ایک موضع بنتا ہے۔موضع  کا اپنا ایک نقشہ ہوتا ہے  جس میں زمین کی نشاندہی کی جاتی ہے ۔  پاکستان  بننے کے وقت  ایک ایک جاگیر دار کے پاس کئی کئی موضعجات ہوتے تھے جبکہ اب حالات پہلے سے مختلف ہیں۔

کھیوٹ

موضع کے بعد کھیوٹ آتے ہیں  ۔ جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سے  لوگوں اور خاندانوں کی زمینیں شامل ہوتی ہیں   ۔ زمین کی تقسیم کو مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دیے جاتے ہین جس سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی زمین کونسی ہے ۔ موضع نمبر تبدیل نہین ہو سکتا لیکن کھیوٹ نمبر عارضی ہوتا  ہے اور  زمین کی خرید و فروخت کے عمل میں اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

کھتونی

جب کھیوٹ بن  جاتے ہیں  جن میں بہت سے لوگ حصہ دار ہوتے ہیں تو ہر شخص کی زمین کی نشاندہی کے لیے کھتونی نمبر دیا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک کھیوٹ ایک سو ایکٹر کا ہے جس میں کئی حصہ دار ہیں ۔ کسی کے پاس دس ایکٹر زمین ہے توکوئی پانچ ایکٹر کا مالک ہے تو وہ اسے کیسے پہچانے گا  کہ اس کھیوٹ میں کس کی کونسی زمین ہے   جسے پہچاننے کے لیے حصہ دار کو کھتونی نمبر دیا جاتا ہے۔   جس کے زریعے وہ اپنی زمین کو پہچان سکتا ہے ۔کھتونیوں کے نمبر بھی عارضی ہوتے ہیں۔یہاں ایک اور مثال  بھی دی جا سکتی ہے ۔ مثلا”  پانچ بھائی ایک کھیوٹ کے مالک ہیں  جس میں دس کھیت ہیں    تو ہر بھائی کے حصہ میں دو ،دو کھیت ہوں گے۔ اب اگر دو بھائی  اپنے کھیت ٹھیکے پر دے دیتے  ہیں تو محکمہ مال کی جانب سے جب ٹیکس وصولی کی جاتی ہے تو ہر پانچ کھیتوں میں  ( جوکہ ایک کھتونی بنے )   کاشتکاری کرنے  والے کو  ایک کھتونی نمبر دے دیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ان کاشتکاری کرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔

خسرہ

اوپر دی گئی مثال کو یہاں لے کر چلتے ہیں۔ اب جن دس کھیتوں کی بات ہو رہی تھی  ان میں سے ہر کھیت کو  ؛جس کی پیمائش کی جائے   تو اسے ایک الگ کھیت شمار کیا جاتا ہو اس  کھیت کو جو خصوصی نمبر دیا جاتا ہے اسے خسرہ نمبر کہتے ہیں ۔  یہ یونٹ تمام یونٹوں میں سب سے چھوٹا  ہو تا ہے۔ خسرہ نمبر پرمننٹ   ہوتا ہے جو فروخت یا ٹھیکے پر دینے سے بھی  تبدیل نہیں ہوتا۔

شاملات

کسی بھی غیر آباد کھیوٹ کو آباد کرنے والے   قبضہ داران  یا پھر ادنیٰ مالک    ہوتے ہیں جب کہ  کھیوٹ کے اصل مالک ، مالک اعلیٰ ہوتے ہیں  جن کے نام سب سے پہلے کھیوٹ کیے گئے  تھے ۔ اب قبضہ داران  یا ادنیٰ مالک کے لیے بنائی  جانے والی مساجد، ہسپتال ، کنویں  وغیرہ شاملا ت کہلاتی ہیں جنہیں  اس کھیوٹ کے رہائشی فروخت نہیں کر سکتے جبکہ  اعلیٰ مالک ان کو فروخت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

امید ہے ان زمینی اصطلاحات کے حوالے سے جاننے کے بعد آپکو اپنی زمین کے حوالے سے  معلومات  حاصل میں کافی مدد ملے گی۔ اگلے بلاگ میں آپکو  زمین کی منتقلی یا حد بندی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

پراپرٹی کے حوالے سے مزید  تفصٰلات جاننے کے لیے وزٹ کریں اے ایچ بلاگ

(Visited 293 times, 1 visits today)
Close
0 Shares
Share via
Copy link
Powered by Social Snap